![]() |
| نئی نسل کی دِین سے دُوری کا سبب / نوجوان علماء سے متنفر کیوں؟ |
نئی نسل کی دِین سے دُوری کا سبب
اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ ہِيَ اَحْسَنُط اِنَّ رَبَّکَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِه وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَo
’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور اُن سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بے شک آپ کا رب اُس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہےo‘‘
اِس آیتِ کریمہ میں اللہ ربّ العزت نے دعوتِ دین کے لئے تین شرائط کا ذِکر فرمایا ہے اور ہمارے یہاں اِلا ماشاء اللہ اِن تینوں کا فقدان ہے۔ یہاں نوجوان نسل کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے اس میں اُن کا قصور نہیں بلکہ زیادہ تر دِین کی تبلیغ کرنے والے قصوروار ہیں۔ وہ تین شرائط یہ ہیں:
1۔ حکمت
2۔ نصیحت
3۔ جدال احسن
اَب سب سے پہلے ہمارے ہاں حکمت کا فقدان ہے۔ جس اَنداز کے ساتھ اِن تینوں تقاضوں کو علمی، تحقیقی، سائنسی اور تجرباتی پہلوؤں کو مدِنظر رکھ کر اِسلام کے تقاضوں کو متعارف کرانے کی ضرورت تھی وہ حق اَدا نہیں کیا جا رہا۔ یہ سائنس کا دور ہے، جس میں ہر شے کو تنقید کے معیارات پر پرکھا جاتا ہے۔ اِس دَور میں اِنسان فوری اِنکار، تنقید، کیوں اور کیا، why اور what کی طرف جاتا ہے۔ جبکہ اِس کے برعکس جس اَنداز سے اِسلام کو پیش کیا جارہا ہے وہ فقط فتویٰ کا اَنداز ہے کہ قرآن و حدیث نے کہہ دیا تو بس اِس لئے مان لیا جائے۔ آج کا نوجوان پوچھتا ہے کہ قرآن و حدیث نے ایسا کیوں کہا؟ اَب قرآن و حدیث خود تو یہ نہیں بتاتے کہ ایسا کیوں کہا ہے، اِس کا جواب تو علماء نے دینا ہے۔ یہ جواب سائنسی تجربی توثیق جانے بغیر علماء پیش نہیں کر سکتے، جس سے سارا معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔
ہمارے یہاں تبلیغ کی حکمت کا فقدان ہے۔ تبلیغ کے لئے جو تقاضے پور ے ہونا چاہیئے تھے وہ نہیں ہو رہے۔ نوجوان نسل کا ذِہنی اِنتشار ختم ہو سکتا ہے، بشرط یہ کہ موجودہ دَور کے تقاضوں کو پورا کر کے اِسلام کی تبلیغ کی جائے۔ اِسلام کو سائنسی طرزِ فکر کے مطابق مدلل اَنداز میں پیش کیا جائے۔ دورانِ تبلیغ اَیسے جدید نظریات اور فلسفے جو اِیمان کو متزلزل کرتے ہیں، اُن کا تقابل کرتے ہوئے دِین کو پیش کیا جائے۔
دُوسرے اِسلام کے حلقوں میں تفرقہ و اِنتشار اور کفر کے فتوے سننے کو ملتے ہیں۔ نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ ہم کس اِسلام کو مانیں، یہ تو آپس میں ہی ایک دُوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ یہی حکمت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اِنتشار کا شکار ہے۔اِسلام کی دَعوت دینے والوں کے کردار میں اِسلام کی تعلیمات کم نظر آتی ہیں۔ وہ تعلیم کے اسٹیج پر کچھ اور سنتے ہیں اور جب تعلیم دینے والوں کے قریب جا کر اُن کی عملی زندگی کو بغور دیکھتے ہیں تو اُن کے اپنے عمل میں جتنا تضاد دِین کی تبلیغ کرنے والوں کے ہاں پیدا ہوگیا ہے اُتنا شاید ہی کسی اور حلقے میں ہوگا۔
یوں تو تضاد سوسائٹی کے ہر طبقے میں ہے، مگر علماء کا تضاد دِین کو نقصان پہنچارہا ہے۔ نوجوان نسل متنفر ہوتی ہے۔ پھر مولوی کا ایک خاص سمبل اُن کے ذہن میں بن گیا ہے، جس کا وہ مذاق اُڑاتے ہیں۔ مولوی کو جہالت اور قول و فعل کے تضادکا نمونہ تصور کرتے ہیں۔ حالاں کہ مولوی تو بہت بڑا نام ہے، ایک زمانے میں یہ علم کے ایک ستون کا نام تھا۔ مگر بدقسمتی سے اِس دَور میں جو تصور پروان چڑھا ہے اُس نے مولوی کو عام آدمی سے دُور کر دیا، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ علماء نے جدید علوم پڑھنے چھوڑ دیئے ہیں اور وہ مدارس کے نظام کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جدید علوم اُن کے پاس نہیں ہیں تو وہ اِس دَور کے تقاضوں پر بات کرنے کے ہی اَہل نہیں۔ علاوہ اَزیں علم کی قوت سے اَحوالِ قلبی نہیں بدلتے بلکہ اَحوالِ قلبی تو محبت سے بدلتے ہیں۔
ہمارے مذہبی حلقے اِسلام کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم کر رہے ہیں۔ جامعات اور تعلیمی اِداروں میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کو ملحد، دہریہ، کافر اور لادین قرار دیا جا رہا ہے۔ اِس سارے رویے کا باعث فی الحقیقت سیاسی محرکات ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے اندرونی اِختلافات کے باعث نئی نسل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جو طالب علم اُن کی سیاسی قوت اور اُن کے الیکشن پروگرام سے موافقت نہیں رکھتا اُسے لادین اور ملحد قرار دے کر مزید دُور کر دیتے ہیں۔ اِختلاف تو صرف زاویہ نگا ہ کا ہوتا ہے، اس کی بجائے اُسے دین پر اِختلاف قرار دے دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی سطح کے نوے فی صد نوجوان لادِین نہیں بلکہ منتشر ذِہن کے حامل ہوتے ہیں۔ اُن کی سوچیںواضح نہیں ہوتیں، وہ جدید فلسفوں کو سنتے ہیں تو ڈانواں ڈول ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں جب اُن پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے تو اُس کا ردِعمل شروع ہوجاتا ہے۔ اُس ردِعمل کا آغاز سیاسی دھڑے بندیوں سے ہوتا ہے اور پھراُسے دِینی رنگ دے دیا جاتا ہے۔
وہ نوجوان نسل جو اِسلام کے نام سے پہلے ہی بیزار ہو چکی تھی، جب ساری کارروائی اِسلام کے نام پر ہوتے دیکھتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ اگریہی اِسلام کے اِجارہ دار ہیں اور اگریہی اِسلام کا کردار ہے تو اَیسے اِسلام کو ہمارا دُور ہی سے سلام۔ یوں اگر وہ لادین نہیں بھی تھے توچارو ناچار لادِین بنا دیئے جاتے ہیں۔
فرقہ وارِیت کسی ایک فرقے کا نام نہیں ہے، فرقہ وارِیت ایک روِیہ اور سوچ کا نام ہے۔ فرقہ وارِیت ایک ضابطہ عمل ہے، ایک طریقہ کار ہے اور ایک زاویہ نگاہ ہے کہ آپ اپنے سوا کسی کو بھی مسلمان نہ سمجھیں، یہی فرقہ وارِیت ہے۔ اپنے سواکسی کو زندہ رہنے کا حق نہ دینا، اپنے سوا کسی کو اِسلام کے لئے کام کرنے کا اَہل نہ سمجھنا، اِسلام کو صرف اُسی صورت میں اِسلام سمجھنا جب وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اگر ہمارے ہاتھوں سے نکل کر اِسلام کا کام دُوسرے ہاتھوں میں چلا جائے تو وہ اِسلام نہیں رہتا، یہ تو اپروچ ہے مذہبی حلقوں کی۔ اِس عصبیت، تشدد اور تنگ نظری نے اِسلام کو قربانی کا بکرا بنا دیا ہے۔ یہ لوگ دِین کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ یہ تمام باتیں جدید نسل اور اَعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کو، حتیٰ کہ اَیسے اَن پڑھ لوگوں کو بھی جو حالات کو بغور دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، دِین سے دُور کرنے کا باعث بن رہی ہیں اور دِین سے بغاوت کے اَسباب پیدا ہورہے ہیں۔
نئی نسل کے دِین سے بیزار ہو جانے کی ذمہ داری اُن سے زیادہ دِین کے نام نہاد اِجارہ داروں اور علمبرداروں پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ عاقل و بالغ ہونے کی و جہ سے وہ لوگ خود بھی ذمہ دار ہیں کہ اَیسے علماء کو دیکھ کر دِین سے دُور ہونے کی بجائے اَزخود دِین کا مطالعہ کریں اور اُس کا پیغام سمجھنے کی کوشش کریں، لیکن اُس کے اَصل ذِمہ دار دِین کا پرچار کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر ہم سنبھل جائیں اور اَپنے علم، حکمت اور کردار و عمل میں اُس جدالِ اَحسن کی روِش کو اپنائیں، جس کی بنیاد قرآنِ مجید نے فراہم کر دی ہے تو یہ نوجوان بھی یقینا سنبھل جائیں گے۔
مجھے اکثر لوگ آکر بتاتے ہیں کہ اُن کے محلے کا لڑکا گلیوں میں کھڑا ہوتا تھا، سینما جاتا تھا، سیٹیاں بجاتا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تحریکِ منہاج القرآن سے وابستگی کے بعد اُس کے حالات بدل گئے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے نوجوانوں کے والدین آ کر اِس بات کا اِعتراف کرتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہمارے بیٹے کی زندگی بدل گئی، اُس کی کایا پلٹ گئی۔ ہمیں سو سو طرح سے دُعائیں دیتے ہیں۔ اگر اِس نہج پر بھی کام کیا جائے تو آج کا نوجوان نسبتاً اچھا نوجوان ہے، اُس میں جذب و قبول کی صلاحتیں بدرجہ اَتم موجود ہیں۔ قصور سراسرہمارا اپنا ہے، ہم تو خود نوجوان نسل کو سنوارنا نہیں چاہتے اور اُس بگاڑ کا ذمہ دار دُوسروں کو قرار دیتے ہیں۔
.png)
